Thursday, November 21, 2013

Tokyo Motor Show 2013

oh Allah........

Wednesday, November 20, 2013

ہوئے تم دوست

وطن عزیز بیرونی طور پرکن خطرات سے دوچار ہے،کیسی کیسی معاشی، معاشرتی اور اخلاقی صورت حال کا اس کو سامنا ہے، کوئی سیاستدان، کوئی رہنما، کوئی ادارہ غرض معاشرے کے تمام ذمے داران اس صورت حال کا حقیقی ادراک رکھنے کی بجائے ان مسائل اور ایشوز کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جس سے ملک کے حالات سنبھلنے کے بجائے مزید الجھتے جائیں۔ ملک کو درپیش خطرات و مسائل بڑھتے رہیں مگر ان کے ذاتی مفادات پر آنچ نہ آئے۔
وہ سیاسی جماعتیں جو روز اول سے قیام پاکستان کی مخالف تھیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مسلمانان برصغیر کے مطالبہ آزادی کے خلاف عمداً بنائی گئی تھیں انھوں نے ہر مرحلے ہر ہر ذریعے سے قیام پاکستان کی علانیہ مخالفت کی جو تاریخ کا حصہ ہے اور خفیہ طور پر بھی وہ سازشیں کیں کہ مطالبہ آزادی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ مگر جب ان کی تمام تر مخالفانہ کوششوں کے باوجود الحمد اللہ پاکستان معرض وجود میں آ گیا تو یہ بھی پاکستان کے ہمدرد بن کر یہاں سرگرم عمل ہو گئیں۔ ابتدا میں قیام پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد ہر پاکستانی کے دل میں تازہ تھی جب جذبہ آزادی و حب الوطنی عروج پر تھا تو یہ لوگ کھل کر اپنے عزائم کا اظہار کرنے سے گریزاں رہے مگر خفیہ طور پر کم پڑھے لکھے افراد اور کچے ذہن کے نوجوانوں کے دلوں کو اندر ہی اندر اسلام (کہ جس کی سربلندی کے لیے ہی یہ ملک حاصل کیا گیا تھا) کے بارے میں اپنے مخصوص اور متعصبانہ خیالات سے آلود کرنے لگے اور پھر وہ وقت آیا کہ انھوں نے باقاعدہ سیاسی طور پر اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کرنا شروع کر دیا عوام کی ایک قلیل تعداد کو اپنے نظریات کا اسیر کر لیا۔ قلیل تعداد میں نے بڑے وثوق سے اس لیے لکھا ہے کہ پاکستان کے انتخابات اس بات کے گواہ ہیں کہ ان مخصوص نظریات کو عوام میں کبھی بھی پذیرائی حاصل نہ ہوئی اور یہ ہمیشہ سیاسی اقلیت ہی رہے۔
آگے چل کر غضب انھوں نے یہ کیا کہ طلبا کو اپنی منفی سوچ کا حصہ بنا کر تعلیمی اداروں کو سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کر کے جو نقصان تعلیم اور تعلیمی اداروں کو پہنچایا اس کا ازالہ آج تک ممکن نہ ہو سکا۔ ان سیاسی منافقین کا کردار یہ رہا ہے کہ زبانی پاکستان کو اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے دعوے اور اندرونی طور پر پاکستان دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ۔۔۔۔فطرت کا یہ ازلی مظاہرہ ہے کہ منافق کی منافقت زیادہ دیر پوشیدہ نہیں رہتی۔ بالآخر دلوں کی کدورت کسی نہ کسی طرح ظاہر ہو جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں طالبان کے سربراہ کی ہلاکت پر جو جو موشگافیاں کی گئیں اس نے تمام محب وطن، عقل و شعور اور مثبت انداز فکر کے حامل پاکستانیوں کو نہ صرف ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ تمام مسلمانوں کی گردنیں شرم سے جھکا دیں۔ ان بیانات سے وہ بلی جو کافی عرصے سے تھیلے میں اچھلتی کودتی محسوس ہو رہی تھی باہر آ گئی اور اب پاکستانیوں کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی، فرقہ وارانہ منافرت اور تعصب کو ہوا دے کر امن و امان کی صورت حال کو کن عناصر نے اس مقام پر پہنچایا؟ آج چھیاسٹھ (66) برس گزر جانے کے باوجود ہم ایک متحد اور ہم خیال قوم نہ بن سکے موجودہ صورت حال بتا رہی ہے کہ آیندہ دنوں میں مزید دوریاں پیدا ہوں گی ۔
اگر بات بے تکی اور غیر متعصبانہ بیان تک محدود رہتی تو شاید دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کر دی جاتی اور اگر مسلح افواج کے شہداء، پاکستانیوں کی بڑی تعداد میں شہادتوں پر بیان داغے جانے پر شرمندگی محسوس کرتے ہوئے معذرت کر لی جاتی تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ تمام تر اخلاقی پستی کے باوجود ہماری قوم آج بھی ہاتھ جوڑ کر معافی طلب کرنے والوں سے درگزر کرنے کا جذبہ رکھتی ہے۔ مگر وہاں تو معذرت کے بجائے مزید اشتعال انگیز مطالبات کیے جا رہے ہیں اور گرجدار لہجے میں فرمایا جا رہا ہے کہ فوج کی سیاسی معاملات میں دخل اندازی قابل برداشت نہیں گویا ملک و قوم کے محافظوں کی قربانیوں کی توہین اور ان کے اہل خانہ کی دل آزاری عین اسلامی طرز فکر اور حقیقی اسلام ہے جس کے نفاذ کے یہ لوگ دعوے دار ہیں۔ ہزاروں بے گناہ شہریوں جن میں خواتین اور معصوم بچوں کی اچھی خاصی تعداد شامل ہے ان کی شہادت پر تنقید کرنا اور تمسخر بنانا جائز اور برحق ہے؟ صورت حال یہ ہے کہ اپنے رویے اور انداز فکر پر نادم ہونے کے بجائے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹ رہا ہے۔ اسلام کی خود ساختہ تعریف پر اڑے ہوئے دوسروں کو قرآن مجید فرقان حمید کا بغور مطالعہ کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔
ملک کے دانشور، صاحب الرائے اور روشن خیال افراد جو ہر صورت اور ہر حال میں ملک کو ہر طرح کے خلفشار سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں وہ اس بھیانک انداز فکر پر بے حد فکرمند ہیں کہ وطن عزیز کی بقا و سلامتی کو آخر کیوں داؤ پر لگایا جا رہا ہے؟ محرم الحرام کے تقدس کو بھی فراموش کر کے ہر طرح اور ہر سطح پر منافرت کو فروغ دینا آخر کس سازش کا حصہ ہے؟ جب کہ چند مہذب، وسیع القلب اور محب وطن سیاسی جماعتیں، علما ، دانشور اور انفرادی طور پر کئی اہم شخصیات اس نازک وقت میں مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں نہ صرف سرگرم رہیں بلکہ کسی حد تک کامیاب بھی۔ ان کا طرز فکر اور عمل قابل تعریف ہے۔ اتحاد بین المسلمین اور تمام فرقوں کے درمیان یکجہتی و اتحاد کے لیے ان تمام علما، افراد اور سیاسی سطح پر ایم کیو ایم کا کردار واقعی قابل ستائش رہا ہے ان کا ذکر نہ کرنا بد دیانتی ہو گی۔
اس موقف پر بیشتر کالم نویسوں اور مضمون نگاروں نے تواتر کے ساتھ لکھا اور اپنا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ذرایع ابلاغ خصوصاً برقی ذرایع ابلاغ کا بھی فرض ہے کہ احتیاط کو مد نظر رکھ کر ایسی غیر جانبدارانہ اور غیر متعصبانہ فضا پیدا کریں کہ جس کے باعث معاشرتی ہم آہنگی، اتحاد و اخوت قائم ہو سکے اور ملک کو جس طرح کے حالات اور چیلنجز کا سامنا ہے ان سے بخوبی عہدہ برا ہو سکیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شرح خواندگی کی کمی افراد معاشرہ کے انداز فکر پر اثر انداز ہوتی ہے اور کوئی بھی متعصبانہ سوچ بغیر کسی استدلال کے ناخواندہ لوگوں میں بڑی آسانی سے پروان چڑھائی جا سکتی ہے اور یوں غیر محب وطن عناصر اپنے مفادات و مقاصد باآسانی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کی بدنصیبی کہہ لیجیے کہ وہ بیرونی سے زیادہ اندرونی دشمنوں اور خطرات سے دوچار ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہمیں ان کے ہوتے ہوئے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں بقول شاعر ’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔‘‘ ایسے میں روشن خیال افراد، علما اور سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ تمام خدشات کو بالائے طاق رکھ کر آگے بڑھیں اور اپنا فرض بھرپور ذمے داری سے ادا کریں تا کہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔

جمہوری عمل کی نئی انقلابی تعریف

جمہوری عمل کی نئی انقلابی تعریف
سچ تو یہ ہے کہ جنرل مشرف کے لیے اپنے دل میں ذرا سا بھی نرم گوشہ نہ رکھنے کے باوجود مجھے یقین تھا کہ نواز شریف صاحب کی تیسری حکومت ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گی۔ بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کے قتل میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات کے علاوہ ان کی مزید مقدمات میں بھی ضمانت ہوگئی تو میں نے ان کے بیرون ملک چلے جانے کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ میرا یہ انتظار محض ذاتی تجزیے پر مبنی نہ تھا۔ ایک خلیجی ملک کے بہت ہی اہم سفارتکار نے مجھے آج سے کئی سال پہلے نواز شریف کی سعودی عرب جانے کی خبر دی تھی۔ میں نے جب اس خبر کو اپنے اس وقت کے مدیر کے ساتھ شیئر کیا تو انھیں اعتبار نہ آیا۔ مجھے کافی دنوں تک وہ خبر لکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ اپنے کالموں میں محض اشاروں کنایوں میں اس کا ذکر کرتا رہا۔ اکثر لوگوں کو یہ اشارے سمجھ نہیں آتے تھے جس کی واحد وجہ میری کمزور استطاعتِ اظہار تھی۔ جو صحافی، سیاستدان یا سفارتکار ان اشاروں کو سمجھ لیتے تو وہ سارے نجی ملاقاتوں میں میرا مذاق اڑاتے۔
مجھے سمجھانا شروع ہوجاتے کہ فوج بحیثیتِ ادارہ نواز شریف سے ناراض ہے۔ اپنے پہلے دورِ حکومت میں وہ جنرل اسلم بیگ اور آصف نواز مرحوم سے کوئی بہتر تعلقات نہیں بنا پائے تھے۔ دوسرے دورِ حکومت میں انھوں نے جہانگیر کرامت کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔ اگرچہ کرامت کے بعد جنرل مشرف کی تعیناتی ہم سب کے لیے حیران کن تھی مگر اپنی پسند کے لائے ہوئے آرمی چیف کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مثالی نہ رہ سکے۔ کارگل نے تو اس وقت کے وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات کو پوری دُنیا کے سامنے عیاں کردیا۔ ماضی کی تفصیلات میں مزید گم ہوجانے کے بجائے میں فی الوقت یہ اعتراف کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہوں کہ یومِ عاشور سے چند روز پہلے مجھے اس عرب سفارتکار جس نے نواز شریف کی سعودی عرب جانے کی خبر بتائی تھی یورپ کے ایک ملک سے فون کیا۔ بظاہر وہ مجھ سے معلوم کرنا چاہ رہے تھے کہ جنرل مشرف پاکستان سے کب روانہ ہورہے ہیں ۔ ان کے سوال کرنے کے انداز میں لیکن ایک ’’خبر‘‘ چھپی محسوس ہوئی۔
اتوار کو مگر چوہدری نثار علی خان نے ایک پریس کانفرنس کر ڈالی اور جنرل مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کرنے کے عمل کا آغاز کردیا۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سنتے ہوئے میں نے اپنے تئیں فوراََ یہ فیصلہ کردیا کہ وہ ہم لوگوں کی توجہ راولپنڈی میں یومِ عاشور کے روزپنجاب حکومت کی بے نقاب ہوجانے والی کوتاہیوں سے ہٹانے کے لیے مشرف کا قضیہ لے بیٹھے ہیں۔ مجھے اب یہ اعتراف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بالآخر میں غلط ثابت ہوا۔ سپریم کورٹ کو باقاعدہ چٹھی لکھ کر ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ایک عدالت کی درخواست کردی گئی ہے جو منظور بھی ہوچکی ہے اور اب جنرل مشرف کے خلاف موجود مواد کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ عدالتی عمل ایک حوالے سے شروع ہوچکا ہے۔ ایسے آغاز کے بعد کالم نگاروں کو متوازی عدالت چلانے سے اجتناب برتنا چاہیے۔ تھوڑی دیر انتظار کرلینے میں کیا حرج ہے۔
جنرل مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ہی ساتھ ایک اور اہم واقعہ اصغر خان کیس کی روشنی میں ایف آئی اے کی ایک ٹیم کے قیام کا بھی ہے جو ٹھوس شہادتوں کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ 1990ء کے انتخابات میں اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ہمارے کئی نامور سیاستدانوں میں آئی ایس آئی کے ذریعے بھاری رقوم تقسیم ہوئی تھیں یا نہیں۔ جن سیاست دانوں پر یہ الزام لگا ان میں سے کئی اب اس دُنیا میں نہیں رہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جن کو ان رقوم کے ذریعے اقتدار سے محروم رکھنا مقصود تھا وہ بھی ہمارے درمیان موجود نہیںہے۔ کہا جاتا ہے کہ اصغر خان کیس کے حوالے سے مختلف افراد کو سزا یا جزا ملنے کے امکانات کافی معدوم نظر آتے ہیں۔ مگر اس کیس کی میری نظر میں تاریخی اور علمی حوالوں سے بڑی اہمیت ہے۔ FIAکی تفتیش مکمل ہوجانے کے بعد اگر کچھ لوگوں پر مقدمات چلائے جاتے ہیں تو مرکزی سوال یہ اُٹھے گا کہ کیسے اور کس بنیاد پر ہماری ریاست اور اس کے دائمی اداروں سے تعلق رکھنے والے سول اور فوجی حکمران یہ طے کرلیتے ہیں کہ فلاں سیاست دان یا جماعت ’’قومی مفاد‘‘ کے خلاف کام کررہی ہے اور اسے صاف، شفاف انتخابات کی سہولت فراہم کرنا پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
اس سوال کو مناسب انداز میں اٹھانے کے بعد شاید ہم افتادگانِ خاک بالآخر یہ بھی سمجھ لیں کہ ’’قومی مفاد‘‘ اصل میں ہوتا کیا ہے اور اس کی حدود اور ترجیحات کے تعین کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اس سوال کا جواب مل گیا تو پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کی ایک بالکل نئی بلکہ انقلابی تعریف اور تعبیر ہمارے سامنے آجائے گی۔ نواز شریف صاحب کو میں نے کئی برس تک صرف ایک ایسا سیاستدان سمجھا جن کا تعلق لاہور کے ایک صنعت کار خاندان سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس خاندان کے کارخانوں کو قومیا لیا تھا۔ جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگایا تو یہ خاندان ان کا زبردست مداح بن گیا اور بالآخر پاکستان کی ایک خاص اشرافیہ نے یک جا ہوکر اسی خاندان کے نوازشریف کو بھٹو کی پارٹی اور بیٹی کے مقابلے پر ایک طاقتور سیاسی رہ نما بناکر کھڑا کردیا۔ اپنے اس پسِ منظر کے ساتھ نواز شریف صاحب سے مجھ جیسے شکوک وشبہات کے مارے ایسے اقدامات کی توقع نہیں کررہے تھے جو بالآخر ہمیشہ کے لیے اس ملک کے لیے یہ طے کردیں کہ ہماری ریاست کے لیے فیصلہ سازی کا قطعی اختیار عوام کے منتخب لوگوں کے پاس ہونا چاہیے یا ریاست کے دائمی اداروں کی اشرافیہ کے پاس۔
میری نسل کے لوگ ایوب خان کے آخری دنوں میں اسکول سے کالج پہنچے تو جنرل یحییٰ کو بھگتا۔ کالجوں سے فارغ ہوکر عملی زندگی میں آئے تو جنرل ضیاء کے11سال برداشت کیے اور بالآخر جنرل مشرف کے دس سالوں میں تھک ہار کر ’’اسی تنخواہ‘‘ پر گزارہ کرنے کی عادت سیکھ گئے۔ مجھ جیسے لوگوں کو جنرل مشرف اور اصغر خان کیس کے حوالے سے جو پیش قدمیاں ہورہی ہیں تقریباََ ’’انہونیاں‘‘ نظر آرہی ہیں۔ پژمردہ دلوں میں خوشی کے بجائے اندیشہ ہائے دورودراز نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ رسم دُعا بھول جانے کے باوجود ہاتھ اُٹھ گئے ہیں۔ اس تمنا کے ساتھ کہ جنرل مشرف کے مقدمے اور اصغر خان کیس کے نتائج وہی برآمد ہوں جو بہت دنوں سے مجھ جیسے لوگوں کے دلوں تک ہی محدود رہے ہیں۔

Tuesday, November 19, 2013

"13 جولائی 1931" 82 برسوں سے عالمی بے حسی کا شکار کشمیری عوام!!!

بلوچستان کے واقعات --- "را'، 'موساد' اور 'سی آئی اے' کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ قسط نمبر2

بلوچستان کے واقعات --- را، موساد اور سی آئی اے کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

پاکستان پر حملے کا انجام کیا ہوگا؟

جیل سے فرار شدہ قیدیوں کا نام لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا جائے

"دشمن تھپڑ مارے تو فوراً دوسرا گال آگے کرو" بھارت کے لئے پاکستان کی خارجہ پالیسی

"امن کی آشا" اور پاکستانی سیکورٹی کے اداروں پر بھارت کے نئے الزامات

بھارت سے دوستی کی ہماری بے چینی اور ارون دھتی رائے13 سوال

چومُکھی لڑائی میں ایک محاذ پر جنگ بندی کے لئے مزاکرات کی حکمت عملی

کراچی آُپریشن میں پاک فوج کا استعمال اور بیرونی قوتیں--- قسط نمبر-2

پاک فوج کے "کراچی آپریشن" میں استعمال کی منتظر بیرونی قوتیں

"۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ" پاکستان کے ہاتھوں دس گنا قوت کی داستان شکست!

چومُکھی لڑائی میں ایک محاذ پر جنگ بندی کے لئے مزاکرات کی حکمت عملی

عالمی اداروں سے قرض لینے کا مطلب قوم و ملک کی خودداری کا سودا نہیں۔۔

بھارت سے "دوستی اور تجارت" دونوں خسارے کا سودا ہیں

بھارتی آرمی چیف بھی بالی ووڈ کی ایکشن سے بھرپور فلموں کے دلدادہ نکلے

"اکتوبر 1947" ہندو انگریز گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں کشمیر پر ہونا والا بھارتی قبضہ

"اکتوبر 1947" ہندو انگریز گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں کشمیر پر ہونا والا بھارتی قبضہ

پاک فوج پر "باز" کے ذریعے جاسوسی کرانے کا بھارتی الزام اور بلا اشتعال فائرنگ

پاکستانی فلم "وار" کی مقبولیت پر بھارت سرکار و میڈیا کو لاحق پریشانی